(1) جنت کے خطے

جنہیں پہاڑ ایک بار ڈس لیتے ہیں، وہ لوگ کچھ ادھ موےء سے ہو جاتے ہیں
آم لوگوں کی طرح ہنستے بولتے تو ہیں مگر ان کی سوچ پہاڑوں کی مانند عام زہینیت سے بہت بالا تر ہو جاتی ہے- وہ اسی کے سحر میں مبتلا رہتے ہیں اور اکثر پاگل کہلاتے ہیں- بہانہ چاہیے ہوتا ہے کہ بس کسی طرح زکر چهڑے اور وہ شروع ہوجایں، ان کی خوبصورتی میں زمین و آسمان ایک کرنے … اس لیے اکثر اپنے جیسے “پاگل” لوگوں کی موجودگی میں ہی خوش رہتے ہیں

اب ذرا خود بتائیں، ایسی دیو هیکل پہاڑیوں، دلکش مناظر او سحر انگیز قدرت کے درمیان کوی کیسے پاگل نہ ہو

یہ ہنزہ ہے- یہ ان چند خطوں میں سے ایک خطہ ہے جسے کہا جاتا ہے کہ یہ اسی جنت کے کچھ حصے ہیں جو حضرت آدم ء سے چهین لی گئ تھی- میرا تو خیال ہے، ٹھیک ہی کہتے ہیں

This slideshow requires JavaScript.

اگر آپ بہی پاگلوں میں اپنا شمار کرانا چاہتے ہیں تو ہنزہ ضرور جائیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s